ہجر ‏کی ‏مسافت ‏میں‏ ‏از فرحت ‏عباس ‏شاہ

ہجر کی مسافت میں

ہجر کی مسافت میں
دل تمہارے بن جاناں
بار بار گھبرا کر
زندگی کے رستے سے
دور دور ہو جائے!
جیسے کوئی دیوانہ
وحشتوں کے گھیرے میں
شہر کے گلی کوچے
چھوڑ کر کسی بن میں
دوریوں سے ٹکرا کر
چور چور ہو جائے!!

(فرحت عباس شاہ)

Comments

Popular posts from this blog

مثالِ دستِ زلیخا تپاک چاہتا ہے از احمد فراز

میلادیوں کے گیارہ اعتراضات و شبہات کے جوابات

ہماری عجیب نفسیات