آورد ‏از ‏عبدالمجید ‏امجد

آورد

دھیان کا جب بھی کوئی پٹ کھولا
"میری بات نہ کہہ"، دل بولا
دل کی بات کہی بھی نہ جائے
ضبط کی ٹیس سہی بھی نہ جائے
نظم میں کس کا ذکر کروں اب
فکر میں ہوں، کیا فکر کروں اب
ایک عجب الجھن میں گھرا ہوں
کیا سوچوں، یہ سوچ رہا ہوں!!

عبدالمجید امجد

Comments

Popular posts from this blog

مثالِ دستِ زلیخا تپاک چاہتا ہے از احمد فراز

میلادیوں کے گیارہ اعتراضات و شبہات کے جوابات

ہماری عجیب نفسیات