Posts

Glimpses of the Prophetic Biography on YouTube

https://vk.com/wall261755541_2083

ہماری عجیب نفسیات

اہل تشیع کے ساتھ رہتے رہتے نجانے ہماری کیا عجیب نفسیات بن گئی ہے کہ ہم عثمانی سلاطین سے لیکر مغل بادشاہوں تک، یہاں تک کہ تیمور لنگ کا ذکر بھی کرینگے تو ان کے کارناموں سے بحث کرینگے اور مسلم تاریخ میں ان کے مثبت کردار پر فخر مند ہونگے لیکن جیسے ہی بات بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں کی آتی ہے جو کہ نہ صرف اپنے شخصی کردار میں بلکہ حکومت کرنے کے طریقوں میں بھی بعد کے سلاطین عثمانی و تیموری سے بدر جہا بہتر و اعلی تھے، ہم ان کے جہادی کارنامے، علم کی ترویج میں ان کے کردار، ان کی عصری علوم کی ترقیات وغیرہ سب کو نظر انداز کرکے غیر ثابتہ، کمزور اور مبالغہ آمیز روایات کے تحت محض ان کی سئیات کا ذکر کرتے ہیں۔ اگر superficially دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہو کہ عثمانی و تیموری سلاطین کے سامنے اموی و عباسی خلفاء شخصی و انتظامی دونوں طور سے نہایت کوتاہ قد تھے۔ جبکہ حقیقت کی دنیا میں اموی و عباسی خلفاء کا دور خیرالقرون میں ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے علمی و انتظامی کارناموں کے تحت اپنے بعد والے سلاطین سے کوئی مقابلہ تک نہیں بنتا۔ لیکن ہم عثمانی اور ترکان تیموری یہاں تک کہ آل سعود کی حمایت میں نقل کردہ ہ...

میلادیوں کے گیارہ اعتراضات و شبہات کے جوابات

ان گیارہ اعتراضات شبہات كے جوابات جوكہ عید میلاد ﷺ منانے كے قائل احباب عام طور پر اٹھاتے ہیں: پہلے وہ شبہات اور اعتراضات ملاحظہ فرمائیں: ::: 1⃣ ::: ہر سال جشن سعودیہ منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ ::: 2⃣ ::: ہر سال غسل کعبہ ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ ::: 3⃣ ::: ہر سال غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے جس کا قران و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ ::: 4⃣ ::: غلاف کعبہ پر آیات لکھی جاتی ہیں جس کا قران و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ ::: 5⃣ ::: مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے جس کا قران و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ ::: 6⃣ ::: مدارس میں ختم بخاری شریف ہوتا ہے جس کا قران و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ ::: 7⃣ ::: سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جس کا قران و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ ::: 8⃣ ::: ہر سال تبلیغی اجماع ہوتا ہے اور چلے لگائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ ::: 9⃣ ::: صحابہ کرام علیہم الرضوان کے وصال کے ایام منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ ::: 🔟 ::: جشن دیو بند و اہلحدیث منایا جاتا ...

عذابِ وحشتِ جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی از افتخار حسین عارف

عذابِ وحشتِ جاں کا صِلہ نہ مانگے کوئی نئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں عجیب رسم چلی ہے، دُعا نہ مانگے کوئی تمام شہر مُکرّم، بس ایک مُجرِم میں سو میرے بعد مِرا خُوں بہا نہ مانگے کوئی کوئی تو شہرِ تذبذُب کے ساکِنوں سے کہے نہ ہو یقین تو پھر مُعجزہ نہ مانگے کوئی عذابِ گردِ خزاں بھی نہ ہو، بہار بھی آئے اِس احتیاط سے اجرِ وفا نہ مانگے کوئی (افتخار عارف)

مثالِ دستِ زلیخا تپاک چاہتا ہے از احمد فراز

مثالِ دستِ زُلیخا تپاک چاہتا ہے یہ دل بھی دامنِ یُوسُف ہے، چاک چاہتا ہے دُعائیں دو مِرے قاتِل کو تُم، کہ شہر کا شہر اُسی کے ہاتھ سے ہونا ہلاک چاہتا ہے فسانہ گو بھی کرے کیا، کہ ہر کوئی سرِ بزم مآلِ قصۂ دِل دردناک چاہتا ہے اِدھر اُدھر سے کئی آ رہی ہیں آوازیں اور اُس کا دھیان بہت اِنہماک چاہتا ہے ذرا سی گردِ ہوس دِل پہ لازمی ہے فراز وہ عِشق کیا ہے جو دامن کو پاک چاہتا ہے! (احمد فراز)

Why should you read "Waiting For Godot"? - Iseult Gillespie

Image

Waiting for Godot

Image

دنیا ‏تو ‏محض ‏وہم ‏اور ‏خیال ‏ہے

انگلستان کے بہت بڑے فلسفی بریڈلے نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب Appearance and Reality میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ "جو کچھ نظر آتا ہے وہ حقیقت نہیں ہے، بلکہ حقیقت اس کے پیچھے ہے۔" جو کوئی محض آنکھوں سے نظر آنے والی چیزوں میں الجھ گیا وہ درحقیقت باطل (falsehood) کا شکار ہے، جب تک کہ اس ظاہر کے پردے کو چیر کر باطن کو نہ دیکھا جائے۔ اقبال نے کہا ہے  گاہ مری نگاہِ تیز چیر گئی دلِ وجود گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں عربی کا ایک شعر ہے كُلٌّ مَّا فِى الْكَوْنِ وَهْمٌ اَوْ خَيَالٌ اَوْ عُكُوْسٌ فِى الْمَرَايَا اَوْ ظِلَالٌ "کائنات میں یہ جو کچھ ہے وہم ہے یا خیال ہے، یا جیسے شیشوں کے اندر عکس ہوتا ہے یا جیسے سایہ ہوتا ہے۔"

ایک ‏کہانی ‏از ‏امجد ‏اسلام ‏امجد

ایک کہانی میں تنہا تھا، سرد ہوا تھی رات کے پچھلے پہر کی کالی خاموشی تھی پیڑوں کے چہروں پہ اک بےنام تحیر تھا جیسے وہ میرے پیچھے کوئی دشمن دیکھ رہے ہوں دور دور تک چاروں جانب ویرانی کا جال تنا تھا میں اس منظر کی ہیبت سے خائف تھا اور اپنے دل میں سوچ رہا تھا "آگے میرے دوست کھڑے ہیں، جنگل کے اس پار نہایت بےچینی سے میرا رستہ دیکھ رہے ہیں، ان کی رس میں ڈوبی باتیں، چاہت سے معمور نگاہیں پھیلی باہیں میرے غم کا مرہم ہوں گی سفر صعوبت سن کر ان کی آنکھیں شبنم شبنم ہوں گی جب میں ان کو وہ سب چیزیں جو میں جنوں اور دیووں سے لڑ کر لایا ہوں، دوں گا تو ان کے چہرے کھل اٹھیں گے وہ پوچھیں گے! ......" ابھی میں دل میں ان کے سوالوں کے جملے ہی سوچ رہا تھا یکدم مجھ پر جانے کہاں سے کچھ سائے سے ٹوٹ پڑے، میرے سینے اور کندھوں میں ان کے ٹھنڈے خنجر اترے، خون بہا تو میں نے بچنے کی کوشش میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھائے لیکن میرے ہاتھ نہیں تھے! میری آنکھوں کے آگے سے ساری چیزیں ڈوب رہی تھیں، سائے مجھ پر جھپٹ جھپٹ کر وہ سب چیزیں لوٹ رہے تھے جن کی خاطر میرے ساتھی جنگل کے اس پار کھڑے تھے! یکدم اک بجلی سی چمکی میں نے ان سایو...

سوال ‏از ‏امجد ‏اسلام ‏امجد

سوال آسمانوں سے کوئی بشارت نہیں اور زمیں گنگ ہے وقت اک بیوہ ماں کی طرح سوگ میں مبتلا ہے __ ہوا سسکیاں لے کے چلتی ہے کالی ہوا خواہشوں کے کنول درد کی جھیل سے سر اٹھاتے نہیں خواب تک بند آنکھوں میں آتے نہیں.. ساری سچی کتابوں میں یہ درج ہے ایسے حالات میں آسماں سے نبی یا تباہی زمیں کی طرف بھیجے جاتے رہے ہیں مگر ان کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے نبی اب نہیں آئیں گے!! امجد اسلام امجد

آورد ‏از ‏عبدالمجید ‏امجد

آورد دھیان کا جب بھی کوئی پٹ کھولا "میری بات نہ کہہ"، دل بولا دل کی بات کہی بھی نہ جائے ضبط کی ٹیس سہی بھی نہ جائے نظم میں کس کا ذکر کروں اب فکر میں ہوں، کیا فکر کروں اب ایک عجب الجھن میں گھرا ہوں کیا سوچوں، یہ سوچ رہا ہوں!! عبدالمجید امجد

Like as the damask rose you see

Like as the damask rose you see, Or like the flower on the tree, Or like the dainty flower in May, Or like the morning of the day, Or like the sun, or like the shade, Or like the gourd that Jonas had; E'en such is man, whose thread is spun, Drawn out and cut, and so is done. If none can scape Death's dreadful dart, If rich and poor his beck obey, If wise, if strong, if all do smart, Then I to scape shall have no way. O grant me grace, O God, that I, My life may mend since I must die..

Silver Birch

Life is always a polarity. If there were no darkness, there would be no light. If there were no trouble, there could never be any peace. If the sun always shone, you would not appreciate it. You have to learn sometimes through conditions that seem a nuisance. One day you will look back and say, "We learned our best lessons not when the sun was shining, but when the storm was at its greatest, when the thunder roared, the lightning flashed, the clouds obscured the sun and all seemed dark and hopeless." It is only when the soul is in adversity that some of its greatest possibilities can be realized. ~ Silver Birch

کوئی ‏تو ‏سیکھے ‏از ‏نیلمہ ‏ناہید ‏دُرّانی

اُداس لوگوں سے پیار کرنا، کوئی تو سیکھے سفید لمحوں میں رنگ بھرنا، کوئی تو سیکھے کوئی تو آئے خزاں میں پتے اُگانے والا گلُوں کی خوشبو کو قید کرنا، کوئی تو سیکھے کوئی دِکھائے محبتوں کے سراب مجھ کو میری نگاہوں سے بات کرنا، کوئی تو سیکھے کوئی تو آئے نئی رُتوں کا پیام بن کر اندھیری راتوں میں چاند بننا، کوئی تو سیکھے کوئی پیمبر، کوئی امامِ زماں ہی آئے اسیر ذہنوں میں سوچ بھرنا، کوئی تو سیکھے (نیلمہ ناهيد درانی)

سنتے ‏تھے

سمجھ کے اپنے بڑوں کی نِشانی ۔۔۔ سٌنتے تھے جدید لوگ بھی غزلیں پٌرانی سٌنتے تھے کِسی کو ہم سے زیادہ خبر ہماری تھی سو اپنا حال ہم اٌس کی زبانی سٌنتے تھے کچھ اِس لئے بھی غنیمت تھی گھر میں ٹین کی چھت ہم اِس وسیلے سے بارش کا پانی سٌنتے تھے ہماری آنکھ ۔۔۔۔۔ سماعت کا کام دیتی تھی ہم اٌس کو دیکھتے رہتے تھے ۔۔۔۔یعنی سٌنتے تھے محاذ کھولا ہوا تھا کِسی نے میرے خِلاف اور اٌس کی بات مِرے یار جانی سٌنتے تھے الاؤ میں ہی کہیں جل بٌجھا وہ وقت ۔۔۔۔ کہ جب کوئی سٌناتا تھا ۔۔۔۔ اور ہم کہانی سٌنتے تھے

دل ‏بنا ‏دیا

ہندوستان میں ایک جگہ مشاعرہ تھا۔ ردیف دیا گیا: "دل بنا دیا" اب شعراء کو اس پر شعر کہنا تھے۔ سب سے پہلے حیدر دہلوی نے اس ردیف کو یوں استعمال کیا: اک دل پہ ختم قدرتِ تخلیق ہوگئی سب کچھ بنا دیا جو مِرا دل بنا دیا اس شعر پر ایسا شور مچا کہ بس ہوگئی ، لوگوں نے سوچا کہ اس سے بہتر کون گرہ لگا سکے گا؟ لیکن جگر مراد آبادی نے ایک گرہ ایسی لگائی کہ سب کے ذہن سے حیدر دہلوی کا شعر محو ہوگیا۔ انہوں نے کہا: بے تابیاں سمیٹ کر سارے جہان کی جب کچھ نہ بَن سکا تو مِرا دل بنا دیا۔

اک ‏نظم ‏ترے ‏دروازے ‏پر

اک نظم ترے دروازے پر سانپ سے میں نے پوچھا "ارے کم نظر! بین جوگی نے پوری بجائی نہ تھی اپنے بل سے تڑپتے مچلتے ہوئے، رقص کرتے ہوئے کس لیے قید تو خود بخود ہو گیا؟ اس پٹاری کے زندان میں سو گیا!" سانپ کہنے لگا، "ساری دنیا میں جتنے بھی دروازے ہیں سب کی اک آن ہے سب کی اک شان ہے سب کا اک ظرف ہے سب کی اک بات ہے جتنا دروازہ ہو، اتنی خیرات ہے ایک میں ہوں کہ اتنی جگہ بھی نہیں لیٹ کر سو سکوں مطمئن ہو سکوں میرے دن رات کیا؟ میری اوقات کیا؟ ایک دن اک سپیرا ادھر آ گیا آس لے کر مرے اجڑے گھر آ گیا اپنے گھر کی مجھے لاج رکھنی پڑی لذت_ قید بھی چاہے چکھنی پڑی." اے مرے دل ربا! اے مرے بے وفا! سانپ کی بات سن کر میں چکرا گیا!! تیرا دروازہ پھر مجھ کو یاد آ گیا!!

محبت لفظ تھا میرا ‏از ‏عرش ‏صدیقی

مَحَبَّت لفظ تھا میرا مَیں اُس شہرِ خرابی میں فقیروں کی طرح در در پھرا برسوں اُسے گلیوں میں، سڑکوں پر گھروں کی سرد دیواروں کے پیچھے ڈھونڈتا تنہا کہ وہ مل جائے تو تُحفہ اُسے دُوں اپنی چاہت کا تمنا میری بر آئی، کہ اِک دن ایک دروازہ کُھلا اور مَیں نے دیکھا وہ شناسا چاند سا چہرہ جو شادابی میں گُلشن تھا مَیں اک شانِ گدایانہ لیے اُس کی طرف لپکا تو اس نے چشمِ بےپروا کے ہلکے سے اشارے سے مجھے روکا اور اپنی زلف کو ماتھے پہ لہراتے ہوئے پوچھا: "کہو اے اجنبی سائل، گدائے بے سر و ساماں، تمہیں کیا چاہیئے ہم سے؟" مَیں کہنا چاہتا تھا "عُمر گزری جس کی چاہت میں وُہی جب مِل گیا تو اور اب کیا چاہیئے مُجھ کو!؟" مگر تقریر کی قُوّت نہ تھی مُجھ میں! فقط اِک لفظ نِکلا تھا لبوں سے کانپتا، ڈرتا جِسے اُمید کم تھی اُس کے دِل میں بار پانے کی!! "مَحَبَّت" لفظ تھا میرا مگر اُس نے سُنا "روٹی"!!! (عرش صدیقی)

محبت مر ‏نہیں ‏سکتی ‏از ‏عبدالسمیع ‏سائر

محبت مر نہیں سکتی ستارے ٹوٹ بھی جائیں سمندر سوکھ بھی جائیں زمیں کی کوکھ کے سب استعارے روٹھ بھی جائیں صبا، گُل اور بہاروں سے کنارا کر نہیں سکتی محبت مر نہیں سکتی!! زمانہ بیت جائے گا زمانے بیت جاتے ہیں فنا کی وادیوں میں روز میرے گیت جاتے ہیں دلوں کی کھیتیوں کو زہر دے کر بارہا ظالم کے لشکر جیت جاتے ہیں مگر نفرت کی تند و تیز ظالم آندھیوں میں بھی فضا میں ایک ننھی پریت کوئل ڈر نہیں سکتی محبت مر نہیں سکتی!! (عبدالسمیع سائر)

Linktree

https://linktr.ee/MuhammadZiaSheikh